حوزه نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سید مسعود حسین، سابق چیئرمین، سی ڈبلیو سی، انڈین گورنمنٹ، نئی دہلی اور آئی سی ایم آر کے بانی سکریٹری و خزانچی نے مفید تجلی ریز خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملازمت حاصل کرنے کے لیے قوم کے طلباء و طالبات خواہشمند ہیں، لیکن ان کے پاس کارآمد و مستحکم معلومات کی آگاہی کا فقدان شدت سے محسوس کیا جاتا ہے۔ وہ باصلاحیت ہیں، محنت کرتے ہیں، وقت کا استعمال کرتے ہیں، توانائی صرف کرتے ہیں، لیکن آخر میں ناکام و ناکامیاب نظر آتے ہیں اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ان کی مناسب طریقے سے مشاورت نہیں ہو پاتی، لہٰذا نتیجہ اخذ کرنے میں دشواری نہیں ہے کہ کہیں نہ کہیں خلا، کمیاں اور کوتاہیاں ہیں۔
انہوں نے مخلصانہ طور سے کہا کہ میں مسابقتی امتحان کی تیاری اور اس میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ہر طرح کی مدد فراہم کرنے کے لیے آمادہ و کمربستہ ہوں۔ اس کے لیے کوچنگ اور دیگر سہولیات بھی علی گڑھ میں دستیاب کرانے کے لیے تیار ہوں۔
قابلِ ذکر ہے کہ سید مسعود حسین اعلٰی عہدے سے سبکدوشی کے بعد قوم کے بچوں اور بچیوں کے مستقبل روشن کرنے کے لیے مسلسل فعال ہیں۔
سماجی کارکن، قوم کے خیر خواہ، کئی ٹیکنیکل انسٹی ٹیوٹ کے بانی و نگہبان نے برجستہ کہا کہ تعلیم کے ہمراہ تعقل بھی لازمی ہے۔ موجودہ پُرآشوب دور میں اعلٰی منصوبہ بندی رکھیں، لیکن زمینی حقائق کو نظرانداز نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ میں آئی ٹی آئی میں داخلہ کے لیے فیس میں رعایت یا مفت کورس کرانے کے لیے تیار ہوں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ طلباء یہ فکر کرتے ہیں کہ سماج و برادری کیا کہے گی کیونکہ یہ ایک معیاری کورس نہیں ہے۔ حالانکہ یہ کورس دوسری کمیونٹی کے بچوں نے کیا اور سرکاری ملازمت حاصل کر کے اپنے خاندان کے ساتھ خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ بھی اپنی قوم کا ایک المیہ ہے۔
انگریزی زبان و ادب کے ناقد و شاعر، بانی صدر (یونائیٹڈ اسپرٹ آف رائٹرز اکیڈمی) اور فرینڈز ویلفیئر سوسائٹی (رجسٹرڈ) کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شجاعت حسین نے سید مسعود حسین صاحب اور سید حیدر علی خان صاحب کی فکر، احساس، دلچسپی، ہمدردی اور کوششوں کی تعریف کی اور کہا کہ اللہ پاک آپ لوگوں کو اپنے نیک مقاصد میں کامیابی و کامرانی عطاء فرمائے!
پروفیسر (ڈاکٹر) علی امیر، سابق چیئرمین، شعبۂ کمیونٹی میڈیسن، جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، بہترین خطیب، سیاسی بابصیرت، مذہبی معرفت سے پُر اور کئی اداروں کے روح رواں جن کا کسی اجلاس میں موجودگی ہی خوش قسمتی تصور کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنے دل آفریں و نشین کرنے والے لب و لہجہ میں اپنے تجربے کی روشنی میں قیمتی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے علی گڑھ میں قوم کے بچوں اور بچیوں کی تعلیم، تربیت اور ملازمت کے حوالے سے مشاورت کی جائے اور نیٹ ورکنگ قائم کی جائے۔ طلباء اور طالبات کی نشاندہی ہو کہ آیا وہ کس فیلڈ میں اپنا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں اور مستقبل میں کیا بننا چاہتے ہیں۔ یہ ان کی ذاتی دلچسپی پر منحصر کرتا ہے۔
آغاز کوچنگ فی الحال قبل از وقت ہوگا۔ آخر میں سید مرتضٰی حسین صاحب نے حاضرین اجلاس و مقررین کا شکریہ ادا کیا۔